ابنا: امام خمینی (رہ) تعلیم و تحقیقی ادارہ کے صدر آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے قائد انقلاب اسلامی کے قم آفس میں اپنے درس اخلاق میں خداوند عالم کی ربوبیت کو دو حیثیت کا حامل تکوینی و تشریعی جانا ہے اور اظہار کیا : جب ہم لوگ یہ قبول کریں کہ خداوند عالم نے ھم لوگوں کو پیدا کیا ہے یہ تکوینی ربوبیت ہے اور خداوند کریم کے احکامات کی اطاعت اور اس پر عمل تشریعی ربوبیت ہے ۔ انہوں نے وضاحت کی : حضرت امام علی علیہ السلام اور تمام اھل بیت علیہم السلام کی ولایت کو قبول نہ کرنا یعنی یہ ہے کہ خداوند عالم کی تشریعی ربوبیت کو قبول نہ کرنا ہے کیونکہ ان کی اطاعت خدا کے حکم کی بنا پر ہے ۔
امام خمینی (رہ) تعلیم و تحقیقی ادارہ کے صدر نے امام رضا علیہ السلام کی حدیث سلسلۃ الذھب کو بیان کرتے ہوئے کہا : اس حدیث میں امام کے بیان کرنے کا مقصد صرف لفظ لااله الا الله نہی ہے بلکہ اس لفظ کو کہنے کے ساتھ ساتھ دل سے اعتقاد بھی ہو جو کہ اصل معیار ہے اور یہ امور خاص یا محدود وقت کے لئے نہی ہونا چاہیئے بلکہ ھمیشہ اس حقیقت کو ذہن میں رکھنا چاہیئے ۔
آیت الله مصباح یزدی نے آیہ «إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا » کی تفسیر میں بیان کیا : جو شخص کہے رَبُّنَا اللَّه اور حقیقتا خدا کو اپنا رب جانے یعنی اس نے تکوینی ربوبیت کو قبول کیا ہے جو کہ ثُمَّ اسْتَقَامُوا کے مصداق میں سے ایک ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کی « و انا من شروطها » جو کہ تشریعی ربوبیت کو قبول کرنا ہے ۔
.....
/169